عمران خان کی آنکھ کا علاج پسند کے ڈاکٹر سے کرائیں گے، رانا ثنااللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو آنکھوں کے معائنے کے لیے اپنی مرضی کے ڈاکٹر کا انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دی جائے گی۔

latest urdu news

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اگر عمران خان کسی مخصوص ماہر امراض چشم سے معائنہ کرانا چاہتے ہیں تو انتظامیہ اس کی سہولت فراہم کرے گی۔

اپنے حالیہ بیان میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ بات شامل نہیں کہ شکایت کے باوجود طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ حکومت طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔

حکام عمران خان کادو دن میں علاج کرائیں، ورنہ ذمہ دار ہوں گے:علیمہ خان

دوسری طرف سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی لیکن جیل حکام نے بروقت توجہ نہیں دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اگر کسی قیدی کی صحت کے معاملے میں غفلت برتی جائے تو یہ نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ مجرمانہ کوتاہی بھی سمجھی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اڈیالا جیل میں قید عمران خان سے متعلق جاری کی گئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور مختلف جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔

حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور اگر کسی بھی مرحلے پر خصوصی معائنے یا علاج کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں عمران خان کے طبی معائنے کے حوالے سے کیا پیش رفت سامنے آتی ہے اور آیا ان کی صحت سے متعلق خدشات دور ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter