اسلام آباد: وزیرِاعظم کا مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے متاثرین کے لیے مالی امداد اور یکجہتی کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک دہشتگرد حملے کے بعد وزیرِاعظم شہباز شریف نے مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا اور شہدا کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واقعے کو نہایت سفاکانہ اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی درندگی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ملک میں انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ایک مذموم کوشش تھی، مگر قوم نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔

latest urdu news

وزیرِاعظم نے زخمیوں کی عیادت بھی کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ متاثرین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حملے میں شہید ہونے والے افراد کے ورثا کو فی کس 50 لاکھ روپے مالی امداد دی جائے گی تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں کچھ سہارا حاصل کر سکیں۔ مزید برآں شدید زخمیوں کے لیے 30 لاکھ روپے جبکہ معمولی زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیکیورٹی ادارے ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔

اسلام آباد خودکش دھماکہ: حملہ آور کے دو بھائی، بہنوئی اور ایک خاتون گرفتار

وزیرِاعظم نے خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں جان قربان کرنے والے عون عباس شہید کے گھر بھی حاضری دی۔ انہوں نے عون عباس کی جرات اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہادر نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں جن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

آخر میں وزیرِاعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں یا اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر سطح پر ان کی مدد جاری رکھی جائے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter