رواں مالی سال میں پیٹرولیم لیوی سے ریکارڈ آمدن، نان ٹیکس ریونیو میں بڑی بہتری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

رواں مالی سال کے دوران حکومت کو پیٹرولیم لیوی کی مد میں غیر معمولی آمدن حاصل ہوئی ہے جس کے نتیجے میں نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اضافی پیٹرولیم لیوی عائد کیے جانے کے باعث نان ٹیکس آمدن بڑھ کر 3 ہزار 847 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو مالی نظم و ضبط کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

latest urdu news

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر کے دوران عوام سے مجموعی طور پر 823 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے گئے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں سالانہ بنیاد پر 273 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حکومتی محصولات میں اضافے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر 87 روپے جبکہ ڈیزل پر 79 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ لیوی کی ان بلند شرحوں کے باعث حکومتی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے، تاہم اس اضافے کا براہِ راست اثر مہنگائی اور عوامی اخراجات پر بھی پڑا ہے، جس پر ماہرین معاشیات کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مجموعی نان ٹیکس ریونیو میں 245 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس میں سب سے بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی کا رہا۔ حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 468 ارب روپے کی وصولی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، اور اب تک کی وصولیوں کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا حجم تقریباً 968 ارب روپے تھا، جو موجودہ سال کے مقابلے میں خاصا کم تھا۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے مالی خسارہ کم کرنے اور آمدن بڑھانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کو ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیٹرولیم لیوی سے حکومتی محصولات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ عوام پر مالی دباؤ بھی بڑھا ہے۔ مستقبل میں حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ آمدن میں اضافے اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter