امریکا نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے ابوظبی کے بعد مذاکرات کا اگلا دور میامی میں منعقد کروانے کی پیشکش کر دی ہے، جسے یوکرین نے قبول کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کو جنگ کے ممکنہ خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی خواہش ہے کہ یوکرین اور روس آئندہ گرمیوں سے قبل جنگ کا خاتمہ کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کے لیے مختلف آپشنز پر کام کیا جا رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے بتایا کہ ابوظبی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران متعدد اہم امور زیرِ بحث آئے۔ ان مذاکرات میں ڈونباس کے علاقے میں فری اکنامک زون کے قیام کے امکان پر بات چیت کی گئی، جسے مستقبل میں معاشی بحالی اور استحکام کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ابوظبی میں فوجی حکام کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی تکنیکی نگرانی کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
بیان کے مطابق فریقین نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر معاملات آگے بڑھتے ہیں تو پیچیدہ اور حساس امور پر بات چیت کے لیے سہ فریقی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، جس میں امریکا، روس اور یوکرین کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی۔
ایران، روس اور چین کا شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر روس رضامندی ظاہر کرتا ہے تو یوکرین بھی باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی معاہدے میں ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے مستقبل سے متعلق تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہو سکا، تاہم یہ معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا عمل جاری رکھنے پر بھی اتفاق پایا گیا ہے، جسے انسانی ہمدردی کے تحت ایک مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
