پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمنٹیرینز نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو باضابطہ یادداشت پیش کی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کی فراہمی، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت، اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ شامل تھا۔
اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر رہنما سپریم کورٹ پہنچے اور شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس نے پمز اسپتال سے میڈیکل رپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن تاحال رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ میں یادداشت جمع کرائیں گے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا حکومت پر سنگین الزام
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان افونزادہ حسین یوسفزئی نے بتایا کہ 8 فروری کو احتجاجی پلان پہلے سے تمام رہنماؤں کو آگاہ کیا جا چکا تھا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی ابہام یا غیر توجہی کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے رہنماؤں کو احتجاج کے طریقہ کار سے مکمل طور پر مطلع کیا ہے، اور یہ مظاہرہ پرامن ہوگا۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی اور دستخط شدہ یادداشت جمع کرائی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ابھی تک اہلِ خانہ، وکلا یا کسی اور کی ملاقات نہیں ہو سکی، اور صرف ڈاکٹر سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے تسلی حاصل کی جا سکے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ آئین و قانون کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے صرف میڈیکل رپورٹ کا مطالبہ کیا ہے اور پوری قوم اس معاملے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یادداشت جمع کرانے کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا اور پارلیمنٹیرینز واپس روانہ ہو گئے، تاہم 8 فروری کو مزید پرامن احتجاج کی تیاری کی گئی ہے تاکہ عوام کو اپنا موقف باور کرایا جا سکے۔
