یونان کے قریب بحیرۂ روم میں مہاجرین کی ایک کشتی افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 مہاجرین ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مہاجرین کی کشتی یونانی کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سمندر میں ڈوب گئی۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، جس کے دوران 24 مہاجرین کو بحفاظت سمندر سے نکال لیا گیا۔ بچائے جانے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ساحلی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور نوجوان بھی شامل ہیں، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں 35 سے زائد افراد سوار تھے، جن کا تعلق مختلف ممالک سے بتایا جا رہا ہے۔ کشتی میں سوار باقی افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جس میں کوسٹ گارڈ کے جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ خراب موسم اور سمندری لہروں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل ہر ممکن حد تک جاری رکھا جائے گا۔
یونانی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوسٹ گارڈ کے جہاز اور مہاجرین کی کشتی کے درمیان تصادم کیسے پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے اور حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، جس کی وجہ سے حادثے کے بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔
جنوبی فلپائن میں مسافر کشتی ڈوب گئی، 15 ہلاک، 316 بچا لیے گئے
یہ واقعہ ایک بار پھر یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت کے دوران پیش آنے والے خطرناک حالات کو اجاگر کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بحیرۂ روم مہاجرین کے لیے دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں ہر سال سینکڑوں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
یونانی حکومت نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔ حکام نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
