امریکا میں بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آیا ہے، جس پر بھارتی سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید
بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایپسٹین کے ساتھ مودی کا تعلق بھارت کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین کی ای میلز میں ذکر ہے کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور جولائی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچ گانا کیا۔
کانگریس کا موقف ہے کہ مودی نے جون 2017 میں امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، اور اسرائیل کے دورے کے بعد ایپسٹین نے ان کی سرگرمیوں کو کامیاب قرار دیا۔ اپوزیشن نے سوالات اٹھائے کہ مودی نے ایپسٹین سے کس نوعیت کا مشورہ لیا، اسرائیل میں ناچنے کا مقصد کیا تھا، اور اس سے ٹرمپ کو کس طرح فائدہ ہوا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھارت کے قومی وقار اور بین الاقوامی ساکھ کا ہے، اور مودی کو عوام کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے۔
جیفری ایپسٹین اسکینڈل: سنسنی خیز ریکارڈ منظرِ عام پر
وزارت خارجہ کا ردِ عمل
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ایپسٹین فائلز میں مودی اور ان کے اسرائیل کے دورے کا ذکر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان دیا کہ وزیراعظم مودی کا جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ درست ہے، لیکن ای میل میں باقی تمام حوالہ جات ایک سزا یافتہ مجرم کے غیر مصدقہ اور مبہم خیالات پر مبنی ہیں۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ یہ الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور انہیں سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیا۔
معاملے کی سیاسی حساسیت
یہ واقعہ بھارت میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں عالمی سطح پر وزیر اعظم کے کردار پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایپسٹین فائلز میں ایسے الزامات کے سامنے آنے سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ پر بھی بحث ہوسکتی ہے، حالانکہ حکومت نے اسے مسترد کر دیا ہے۔
