بھاٹی گیٹ کے علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
داتا دربار کے قریب ماں اور اس کی بچی کے گٹر میں گرنے کے واقعے کے بعد ایس ایچ او بھاٹی گیٹ کو معطل کر دیا گیا جبکہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد ایس پی سٹی اور متعلقہ پولیس کے ردعمل کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات بھی شروع کی جائیں گی۔ انکوائری میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ خاتون کے شوہر اور دیور کو حراست میں لینے کی کیا وجوہات تھیں اور ریسکیو کال پر پولیس نے گرفتاری کیوں کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق تحقیقات جلد مکمل کی جائیں اور افسوسناک رویے میں ملوث تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدا میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس واقعے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم تقریباً دس گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں تقریباً تین کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔
لاشیں برآمد ہونے کے بعد خاتون کے والد کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا، جس کے تحت پروجیکٹ مینجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو گرفتار کیا گیا۔
اس واقعے نے شہریوں میں پولیس کی بروقت کارروائی اور بنیادی سیفٹی انتظامات کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ واقعے میں کس حد تک غفلت یا انتظامی کمی نے جانوں کے ضیاع کا سبب بنایا۔
