وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنااللہ نے لاہور میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گٹر کے ڈھکن لگانا یا شہری سطح پر ایسے بنیادی انتظامی امور کی نگرانی کرنا وزیراعلیٰ کی براہِ راست ذمہ داری نہیں۔
یہ یونین کونسلز اور مقامی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ انتہائی دلخراش اور قابلِ افسوس ہے، تاہم ذمہ داری کے تعین میں حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
رانا ثنااللہ نے یہ بات جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام کے آغاز میں میزبان حامد میر نے ملک بھر میں شہری سہولیات کی خراب صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ سے کراچی، لاہور سے کوئٹہ تک عوام کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں اور اس کی 10 ماہ کی بیٹی گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جبکہ بعض ذمہ دار حکومتی نمائندے اب بھی اسے جھوٹی خبر قرار دے رہے ہیں۔
لاہور میں سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کا معاملہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری
اس پر رانا ثنااللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور کا واقعہ واقعی انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے، لیکن شہری انفرااسٹرکچر جیسے سیوریج لائنز اور گٹر کے ڈھکن لگانا وزیراعلیٰ کے بجائے متعلقہ یونین کونسل اور بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیا، متعلقہ محکموں کے افسران کو طلب کیا اور غفلت پر ان کی سخت سرزنش بھی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی سانحے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کا کردار پالیسی سازی اور نگرانی تک محدود ہوتا ہے جبکہ فیلڈ میں عملی اقدامات مقامی سطح کے ادارے کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ واقعے کے بعد ابتدائی طور پر پولیس اور متعلقہ اداروں نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی گٹر میں گرا ہے۔ حتیٰ کہ شکایت درج کروانے والے خاتون کے شوہر کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں تحقیقات کے بعد واقعے کی تصدیق ہوئی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کی ابتر حالت اور انتظامی غفلت کو نمایاں کرتا ہے، جس پر عوام اور ماہرین دونوں کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
