نوری المالکی کی واپسی پر امریکہ ناراض، ٹرمپ نے عراق کو امداد بند کرنے کی دھمکی دے دی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کی داخلی سیاست پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نوری المالکی ایک بار پھر عراق کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو بغداد اور واشنگٹن کے تعلقات کے لیے ایک اہم اور حساس موڑ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عراق کو معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

latest urdu news

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نوری المالکی کو دوبارہ وزیرِ اعظم بنانا عراق کے لیے ایک انتہائی غلط فیصلہ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق المالکی کے سابقہ ادوارِ حکومت کے دوران عراق بدامنی، غربت اور سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں رہا۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر المالکی اقتدار میں واپس آئے تو امریکا عراق کے لیے نہ مالی مدد فراہم کرے گا اور نہ ہی کسی اور سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نوری المالکی کے دورِ حکومت میں عراق کی صورتحال مسلسل بگڑتی چلی گئی تھی اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی تعاون کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ماضی میں عراق کی مدد کی، لیکن اس کے باوجود ملک میں استحکام پیدا نہ ہو سکا، جس کی بڑی وجہ ناقص قیادت تھی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق میں شیعہ سیاسی اتحاد نے گزشتہ ہفتے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس نامزدگی کے بعد ملک کے اندر اور باہر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ کچھ حلقے المالکی کو ایک تجربہ کار سیاست دان قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے ماضی کے فیصلوں کو عراق کے مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں۔

نوری المالکی 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے دور میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا، سیاسی مخالفین کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے اور امریکا کے ساتھ بھی اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔ اسی عرصے میں سکیورٹی مسائل سنگین ہوئے اور شدت پسند تنظیموں کو منظم ہونے کا موقع ملا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ سخت موقف عراق کی نئی حکومت کی تشکیل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عراقی قیادت امریکی دباؤ کو کس حد تک اہمیت دیتی ہے اور مستقبل کی حکومت کن ترجیحات کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter