ایران کے خلاف کسی کارروائی میں یو اے ای کی سرزمین استعمال نہیں ہوگی، متحدہ عرب امارات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے حوالے سے اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف سامنے رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے اپنی زمینی، فضائی یا سمندری حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اماراتی حکام کے مطابق یو اے ای خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی ہے اور کسی بھی فوجی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنے گا۔

latest urdu news

اماراتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے نہ صرف اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا بلکہ ایسی کسی جارحیت کے لیے لاجسٹک یا تکنیکی معاونت بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ یو اے ای اپنی خارجہ پالیسی میں عدم مداخلت، علاقائی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو بنیادی اصول سمجھتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق موجودہ علاقائی بحرانوں اور تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ یو اے ای کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی عدم استحکام اور تنازعات کا شکار ہے، اس لیے کسی بھی نئے تصادم کے سنگین نتائج پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

کسی بھی فوجی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا:ایران

اماراتی بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے، اور کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یو اے ای کا یہ مؤقف خطے میں توازن برقرار رکھنے اور خود کو کسی ممکنہ جنگی صورتحال سے دور رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت کسی بھی براہِ راست تصادم کے بجائے معاشی استحکام اور داخلی ترقی پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے اس اعلان کو خطے میں امن کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یو اے ای کسی بھی صورت میں ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا اور مسائل کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی راستے کو ہی ترجیح دیتا رہے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter