حکومت سے مذاکرات عمران خان کی مشاورت سے مشروط، اسد قیصر کا دوٹوک مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی پیش رفت کی پہلی اور بنیادی شرط بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان سے مشاورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اعتماد میں لیے بغیر نہ مذاکرات ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی فیصلے پر اتفاق ممکن ہے۔

latest urdu news

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی تقاضا تھا، کیونکہ لیڈر آف دی اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ کا نظام درست طور پر نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق آئین میں لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کی حیثیت برابر ہے اور دونوں کا کردار پارلیمانی نظام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اسد قیصر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں تمام اہم فیصلے بانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور اس روایت سے ہٹ کر کوئی قدم اٹھانا سیاسی ناسمجھی ہوگی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ کر سکتی ہے؟ یا کیا پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر کسی اہم معاملے پر حتمی فیصلہ کر سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کا کوئی بھی فیصلہ ممکن نہیں۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات میں حکومت سنجیدہ، لیکن پی ٹی آئی کی مختلف زبانوں پر اعتماد مشکل:خواجہ آصف

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، تب تک مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اسد قیصر کے مطابق حکومت اگر واقعی سنجیدگی سے مذاکرات چاہتی ہے تو سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کا راستہ ہموار کرنا ہوگا، کیونکہ یہی مذاکرات کی پہلی اور لازمی شرط ہے۔

گفتگو کے دوران اسد قیصر نے مائنز اینڈ منرلز سے متعلق مجوزہ بل پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل پی ٹی آئی کی سیاسی سوچ، بیانیے اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کے خلاف نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بل میں کسی صورت صوبوں کے اختیارات کو کمزور نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی صوبے کی پوزیشن کو کمپرومائز کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اسد قیصر نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل وہی شکل اختیار کرے گا جس کی ہدایت بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی جانب سے بل میں ردوبدل یا صوبائی حقوق کے خلاف کوئی کوشش کی گئی تو پی ٹی آئی ایسے کسی بل کو پاس نہیں ہونے دے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter