گل پلازہ کی منظوری سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں، شرجیل میمن

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے گل پلازہ سے متعلق جاری بحث پر تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر، منظوری یا بعد ازاں ہونے والی کسی بھی قانونی کارروائی میں نہ تو سندھ حکومت اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی کردار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے، جو حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

latest urdu news

شرجیل میمن نے اپنے بیان میں تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی ابتدائی منظوری سن 1983 میں اس وقت دی گئی جب کراچی کے میئر عبد الستار افغانی تھے۔ اس کے بعد 1991 میں میئر ڈاکٹر فاروق ستار کے دور میں اس عمارت کی لیز کی تجدید عمل میں آئی۔ ان کے مطابق یہ تمام فیصلے اس وقت کے بلدیاتی نظام کے تحت کیے گئے، جن کا صوبائی حکومت یا پیپلز پارٹی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں بنتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمارت سے متعلق جن بے ضابطگیوں کا آج ذکر کیا جا رہا ہے، وہ 2003 میں باقاعدہ طور پر ریگولرائز کی گئیں۔ یہ اقدامات اس وقت کے میئر نعمت اللہ خان کے دور میں کیے گئے تھے۔ شرجیل میمن نے واضح کیا کہ یہ تمام معاملات اٹھارہویں آئینی ترمیم سے قبل کے ہیں، جب بلدیاتی اداروں کو زیادہ اختیارات حاصل تھے اور فیصلے انہی کی سطح پر ہوتے تھے۔

وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ کسی سانحے کو بنیاد بنا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس معاملے کو انسانی ہمدردی کے تناظر میں دیکھا جائے اور حقائق کی بنیاد پر بات کی جائے۔

سانحہ گل پلازہ: آخری لاپتا فرد کی تلاش تک عمارت گرانے کی اجازت نہیں، ڈی سی ساؤتھ

واضح رہے کہ کراچی میں پیش آنے والے المناک سانحہ گل پلازہ میں اب تک 71 افراد کی لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جا چکی ہیں، جس نے پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریسکیو ادارے اور متعلقہ حکام مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔

پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ طارق کے مطابق اب تک 16 افراد کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے، تاہم متعدد لاشیں شدید طور پر جل جانے کے باعث ناقابلِ شناخت ہیں، جس کی وجہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شناخت کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter