ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 29 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا فرد موجود ہے، تب تک عمارت کے ملبے کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کے سالم حصے کی سرچ بھی جاری ہے، لیکن فی الحال گری ہوئے حصے پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کے درمیان میں داخل ہونے کا راستہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ریسکیو ٹیمیں محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔ تمام افراد کی تلاش مکمل ہونے کے بعد پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھایا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ پہلے دن سے انفرمیشن ڈیسک قائم ہے اور لاپتا افراد کے لواحقین کو تمام ممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں کام مشکل ہے کیونکہ اندر ابھی بھی دھواں اور گرمی موجود ہے، تاہم کولنگ کا نظام فعال ہے اور جہاں تک ممکن ہوا وہاں سرچ مکمل کی گئی ہے۔
ملبے سے اب تک 28 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں سے 11 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ لاپتا افراد کی فہرست میں 85 نام شامل ہیں، جن میں سے کچھ کے نام دہرائے گئے ہیں اور ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت ممکن ہو جائے تاکہ لواحقین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
سانحہ گل پلازہ: آخری لاپتا فرد کی تلاش تک عمارت گرانے کی اجازت نہیں، ڈی سی ساؤتھ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریسکیو اور سرچ آپریشن مکمل احتیاط کے ساتھ جاری ہے اور انسانی زندگیوں کو ہر قیمت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ گل پلازہ کے ملبے کی تلاش میں مشینری اور مینول ورک دونوں استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ محفوظ طریقے سے ملبہ ہٹایا جا سکے اور لاپتا افراد کو جلد تلاش کیا جا سکے۔
یہ سانحہ کراچی کے شہری علاقوں میں عمارتوں کی حفاظتی اقدامات اور فائر سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور انتظامیہ کی کوشش ہے کہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو۔
