ملک سےفرمز کا جانا ٹیکس اور مہنگی توانائی حقیقی چیلنجز ہیں: وزیر خزانہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کو اس وقت سنجیدہ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بلند ٹیکس، مہنگی توانائی اور بعض کاروباری اداروں کا ملک سے باہر جانا شامل ہے۔

latest urdu news

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ فرمز پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور ہمیں دیانت داری سے تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کر دیا ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی توجہ اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنے تک محدود ہے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر فنانس ڈویژن کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں شفافیت اور توازن پیدا ہو۔

آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری ملازمین کے اثاثےپبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کرچکے: وزیر خزانہ

محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں سال یہ رقم 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور پہلی بار خام مال پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ صنعتی لاگت کم ہو اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت غیربینکنگ آبادی کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس سے ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا اور معیشت دستاویزی شکل اختیار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جائیں گی، جو شفافیت اور کارکردگی میں بہتری کا باعث بنے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے اور ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ وزیر خزانہ کے مطابق موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے “ایسٹ ایشیا موومنٹ” ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم قرضوں کی ادائیگیاں خود بخود کم نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے مشکل فیصلے اور عملی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ معاشی اصلاحات ہی ترقی کا واحد راستہ ہیں اور حکومتی اقدامات کا مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور معیشت کو طویل مدت کے لیے مستحکم بنانا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter