طاقت کے نشے میں ڈوبے حکمرانوں کا انجام تاریخ دہراتی ہے:آیت اللّٰہ خامنہ ای

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ جیسے طاقتور اور مغرور حکمرانوں کا انجام عبرتناک ہوا، اور اسی قسم کا انجام ٹرمپ جیسے رہنماؤں کا بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص خود کو سب سے بالاتر سمجھ کر دنیا کے فیصلے کرنے لگے، وہ دراصل تاریخ کے سبق کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔

latest urdu news

ایک بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا کہ اقتدار اور طاقت ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ ماضی میں کئی حکمران اپنے عروج پر ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ظلم، غرور اور جبر کا انجام زوال کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کے عالمی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سابقہ سلطنتوں اور بادشاہتوں کے انجام سے سبق حاصل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کچھ طاقتیں خود کو قانون اور اخلاقیات سے بالاتر سمجھ رہی ہیں، جو عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے فیصلوں سے دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دے، وہ دراصل انسانیت کے خلاف کام کر رہا ہوتا ہے۔

ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں بدامنی اور فسادات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نہ صرف ایران کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں بلکہ عوام کو اشتعال دلا کر تخریب کاری پر بھی اکسا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے ماضی میں ایران پر حملے کیے اور اب اندرونی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ قوم کے درمیان نفرت اور انتشار پھیلائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام باشعور ہیں اور بیرونی دباؤ یا سازشوں کے سامنے جھکنے والے نہیں۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ملاقات کے انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے خلاف انتہائی سخت اور طاقتور آپشنز بھی امریکا کے زیرِ غور ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق دونوں جانب سے بیانات کی سختی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ سفارتی حل ہی مسائل کا پائیدار راستہ سمجھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter