پنجاب میں فالج کے مریضوں کے لیے اسٹروک سینٹرز اور جدید انجکشن فراہم کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے بھر میں فالج کے مریضوں کے لیے جدید اسٹروک مینجمنٹ سینٹرز قائم کرنے اور ٹی پی اے (TPA) و جدید ٹی این کے انجکشن فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فالج کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے مؤثر اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں کہ مریضوں تک فوری اور معیاری طبی سہولتیں پہنچائی جائیں۔

latest urdu news

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں عارضی اسٹروک مینجمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا جبکہ صوبے میں مرحلہ وار اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں 30 اضلاع، دوسرے مرحلے میں 15 اضلاع اور تیسرے مرحلے میں باقی 24 اضلاع کے اسپتالوں میں اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ ان سینٹرز کا دائرہ کار تحصیل کی سطح تک پھیلایا جائے گا تاکہ مریضوں کو ایمرجنسی کی صورت میں دور دراز شہر کا سفر نہ کرنا پڑے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے فالج کے علاج میں استعمال ہونے والے ٹی پی اے اور ٹی این انجکشن کی خریداری کی بھی منظوری دی اور ہدایت کی کہ وسط فروری تک یہ انجکشن تمام متعلقہ اسپتالوں میں دستیاب ہوں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نہ صرف نیورالوجسٹ بلکہ فزیشنز کو بھی ان انجکشنز کے استعمال کی باقاعدہ تربیت دی جائے گی تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت اور مؤثر علاج ممکن ہو۔

انہوں نے کہا کہ فالج کی بروقت تشخیص اور علاج نہایت اہم ہے، خصوصاً چار گھنٹے کے ’’گولڈن آور‘‘ میں درست اقدامات سے مریض کو مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ عوام میں فالج کی علامات اور فوری علاج کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کی بھی ہدایت دی گئی۔

پیسہ ہر صوبے کے پاس ہے، صرف کام کرنے کی نیت اور ارادے کی کمی ہے: مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ہر ضلع اسپتال میں ماہر نیورالوجسٹ اور پیڈیاٹرک نیورالوجسٹ تعینات کیے جائیں، جبکہ ہر اسپتال میں سی ٹی سکین مشین چوبیس گھنٹے فعال ہو تاکہ فالج کی فوری تشخیص ممکن ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر مریض کو ایمرجنسی علاج کی سہولت اس کے قریبی اسپتال میں فراہم کرنا حکومت پنجاب کا بنیادی وژن ہے۔

یہ اقدام صوبے میں فالج کے مریضوں کے لیے فوری، معیاری اور جدید علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے اور مریضوں کی زندگیوں کو مستقل معذوری سے بچانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter