اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ہفتہ وار کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ "ہم ایرانی عوام کی جدوجہد اور آزادی، خودمختاری اور انصاف کے لیے ان کی خواہشات کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں۔”
ایرانی عوام کی جدوجہد
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ "یہ ممکن ہے کہ ہم اس وقت ایک ایسے لمحے میں موجود ہیں جب ایرانی عوام اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔” انہوں نے مظاہرین کی بہادری اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی تعریف کی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر نیتن یاہو کا موقف
اس کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے تہران کے جوہری پروگرام پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اسی ہفتے اپنے سرکاری دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے جوہری امور پر تبادلہ خیال کیا۔ نیتن یاہو کے مطابق، "ہم نے ایک بار پھر اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات میں سخت نگرانی ہونی چاہیے، زیرو افزودہ مواد کو یقینی بنایا جائے اور 400 کلوگرام افزودہ مواد کو محفوظ طریقے سے نکالا جائے۔”
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 40 شہروں تک پھیل گیا
مظاہروں کی پس منظر
ایران میں احتجاجات گزشتہ اتوار کو شروع ہوئے جب دکانداروں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف ہڑتال کی۔ بعد ازاں یہ احتجاجی سرگرمیاں ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گئیں، اور اب یہ مظاہرے 40 شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی سروس میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان ایران میں انسانی حقوق، آزادی اور معاشرتی انصاف کے لیے بین الاقوامی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی سلامتی کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔
