عمران خان طویل قید کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، انجینئر محمد علی مرزا کے انکشافات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قید رہنے والے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے جیل میں گزارے گئے وقت اور وہاں کی صورتحال سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اس وقت جیل میں شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں، تاہم دو برس تک قید میں رہنے والے کسی بھی شخص کے لیے ایسا محسوس کرنا غیر فطری نہیں۔

latest urdu news

جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں اگرچہ کسی قسم کی شاہانہ یا محل نما سہولیات حاصل نہیں، لیکن انہیں بنیادی سہولتیں ضرور میسر ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کو بیرونی حالات سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں خبروں تک محدود رسائی حاصل ہے اور وہ دو اخبارات روزانہ پڑھتے ہیں۔

انجینئر محمد علی مرزا نے بتایا کہ عمران خان کے کمرے میں ایل ای ڈی ٹی وی نصب ہے، جس کے ذریعے وہ بعض معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان کو جیل میں مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے، تاہم وہاں کی زندگی بہرحال سخت اور محدود ہے۔

انہوں نے جیل کے اندرونی انتظامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کو رہائش کے لیے مجموعی طور پر چھ چکیاں الاٹ کی گئی تھیں۔ ان میں سے پانچ چکیاں عمران خان کے ذاتی استعمال میں تھیں، جبکہ ایک چکی میں ان کا مشقتی مقیم تھا جو روزمرہ امور میں ان کی مدد کرتا تھا۔

انجینئر محمد علی مرزا کے مطابق عمران خان روزانہ معمول کے مطابق دن میں دو مرتبہ اپنی چکی سے باہر آتے تھے۔ وہ صبح تقریباً 9 بجے ناشتہ کرنے کے لیے اور دوپہر تقریباً 3 بجے کھانے کے لیے باہر آتے، اس کے بعد دوبارہ اپنی چکی میں واپس چلے جاتے تھے۔

انہوں نے ایک دلچسپ تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا مشقتی کھانا پکاتے وقت دیسی گھی کا تڑکا لگاتا تھا، جس کی خوشبو اردگرد موجود قیدیوں تک بھی پہنچ جاتی تھی۔ ان کے مطابق یہ خوشبو جیل کے ماحول میں ایک الگ ہی احساس پیدا کر دیتی تھی۔

انجینئر محمد علی مرزا نے عمران خان کے مزاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ غصے میں آتے تو بہت بلند آواز میں اور مسلسل گفتگو کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل قید، سیاسی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کسی بھی شخص کے اعصاب پر اثر ڈالتی ہے، اور اسی تناظر میں عمران خان کی فرسٹریشن کو دیکھا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter