12
لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں بلکہ اسٹریس دینا چاہیے، جج کی پہچان اس کی کورٹ ہینڈلنگ اور فیصلوں سے ہوتی ہے۔
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جواد حسن نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل ترین مقدمات کی سماعت کی مگر کبھی دباؤ محسوس نہیں کیا، سیاسی نوعیت کے کیس بھی دیکھے لیکن ان میں بھی پریشر کا سامنا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں آنے والے 60 فیصد کیسز غیر ضروری ہوتے ہیں جبکہ ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد مقدمات فیملی معاملات سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر جج کے پاس اختیار ہے کہ وہ پہلی ہی سماعت میں غیر ضروری کیس کو خارج کر دے۔
جسٹس جواد حسن نے نئے ججز کے لیے تربیتی کورسز کو نہایت ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے کے لیے وہی کورسز اپنانا ہوں گے جو دنیا بھر میں رائج ہیں۔
