غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے کہا ہے کہ غزہ میں پیدا ہونے والا قحط دراصل اسرائیلی قبضے اور جاری جارحیت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد عالمی برادری کو فوری طور پر خوراک فراہم کرنی چاہیے۔
صحت کا بحران اور تباہ حال اسپتال
ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق:
- صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، اور اسپتالوں میں 6 بچے ایک ہی بستر پر لیٹنے پر مجبور ہیں۔
- اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک 40 ہزار بچے زخمی ہو چکے ہیں۔
- اسرائیلی حملوں کے دوران 150 سے زائد ادویات کے گودام تباہ کیے جا چکے ہیں۔
- دل کے امراض میں مبتلا 1000 مریض بروقت علاج نہ ملنے پر جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے نئے ہتھکنڈے
ڈاکٹر البرش نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج جبالیہ کے محلوں کو تباہ کرنے کے لیے بوبی ٹریپ روبوٹس استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک روبوٹ کے دھماکے کے بعد پورا خاندان ملبے تلے دب گیا۔
غزہ میں اسرائیلی حملے: امداد کے متلاشی افراد سمیت 67 فلسطینی شہید
عوام کا حوصلہ اور مزاحمت
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگ اپنے شہر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور ہمارے ساتھ مسیحی برادری بھی ثابت قدمی سے کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا: "ہمارا فیصلہ واضح ہے، ہم نہ اسپتال چھوڑیں گے اور نہ ہی مریضوں کو۔”
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں کورونا کی موجودگی کی افواہیں درست نہیں ہیں، یہ صرف پروپیگنڈا ہے۔