لاس اینجلس ، امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی آگ پر تاحال قابو نہ پایا جا سکا، خوفناک آتشزدگی سے11افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے، جلتے شعلوں نے12 ہزاراملاک کوجلا کر راکھ بنا دیا۔
غیر ملکی میڈیا کا بتانا ہے کہ آگ نے36 ہزارایکڑسےزائد رقبےکو لپیٹ میں لےلیا، آگ شمالی جنوب کی طرف رخ اختیارکرنے لگی ہے، علاقے میں 115 کلومیٹر کی پٹی میں شدید دھواں امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آگ پر قابو پانے کیلئے بڑے پیمانے پرامدادی کارروائیاں جاری ہیں، آگ بجھانے کی کارروائیوں میں 14 ہزار فائر فائٹرز شریک ہیں، آتشزدگی سے 2 لاکھ افراد نقل مکانی کرگئے جبکہ آگ کی وجہ سے 150 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آگ سے ول روجرز، سٹیٹ ہسٹاریکل پارک، جمیز وُڈز سمیت کئی مشہور اداکاروں کے گھر جل کر خاکستر ہوگئے، کم کارڈیشن اور کئی نامور ہالی ووڈ اداکار اربوں روپے مالیت کے گھر خالی چھوڑکر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔
بعض علاقوں میں لوگوں نے لوٹ مار شروع کر دی ، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ علاقوں میں رہائشیوں نےگلیوں میں گشت بھی کرنا شروع کردیا ہے اور اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر نگرانی کی جارہی ہے۔
پیلی سیڈس اور ایٹون کے علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کردیا گیا، لاس اینجلس پولیس کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ اگر کرفیو کے اوقات میں کسی کو متاثرہ علاقے میں دیکھا گیا تو اسےگرفتار کرلیا جائےگا، خلاف ورزی کرنے والوں کو 6 ماہ قید یا1 ہزار ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، تیز ہواؤں سے آگ مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، ریڈ فلیگ وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔
