وائیٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت امریکی حکمت عملی اور عسکری دباؤ کا نتیجہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ جنگ بندی Washington, D.C. کے لیے ایک بڑی سفارتی اور عسکری فتح ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Karoline Leavitt نے بیان میں کہا کہ اس کامیابی کا سہرا Donald Trump اور امریکی فوج کی کارکردگی کو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ “آپریشن ایپک فیوری” کے آغاز پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ کارروائی چار سے چھ ہفتوں تک جاری رہے گی، تاہم امریکی افواج نے 38 دنوں کے اندر اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے کے ساتھ انہیں عبور بھی کر لیا۔
کیرولائن لیویٹ کے مطابق اس فوجی برتری نے ایران پر دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں امریکا کو سخت شرائط پر مذاکرات کرنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ پیش رفت ایک ممکنہ سفارتی حل اور طویل المدتی امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کا بیان: پاکستانی قیادت سے مشاورت کے بعد ایران سے جنگ بندی پر آمادگی
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صدر ٹرمپ نے Strait of Hormuz کو دوبارہ کھولنے میں کردار ادا کیا، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس اہم گزرگاہ سے محفوظ آمد و رفت اب اس کی افواج کی نگرانی اور ہم آہنگی سے مشروط ہوگی۔
آخر میں وائٹ ہاؤس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی قیادت عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
