امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے بعد کولمبیا کے حوالے سے بھی سخت بیانات دیتے ہوئے ممکنہ کارروائی کا اشارہ دیا ہے، جس کے بعد لاطینی امریکا میں سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان بیانات کو خطے کے لیے ایک نئے بحران کی ابتدا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران خصوصی طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا اس وقت ایک کمزور اور غیر مستحکم قیادت کے زیرِ اثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کولمبیا کو اس وقت ایک ایسا شخص چلا رہا ہے جو زیادہ عرصے تک اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق کولمبیا کی اندرونی صورتحال نہ صرف خود اس ملک کے لیے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے ممکنہ فوجی یا سیاسی کارروائی کے حوالے سے کہا کہ انہیں ”آپریشن کولمبیا“ کا نام پسند ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کے بعد وہاں حلف اٹھانے والی قیادت کے ساتھ معاملات طے کیے جا رہے ہیں، تاکہ ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایک اور کارروائی کے لیے بھی مکمل تیاری موجود ہے، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ ان اقدامات کا مقصد آنے والے انتخابات ہیں، اور کہا کہ اس وقت ان کی تمام تر توجہ وینزویلا کی بگڑتی صورتحال کو درست سمت میں لانے پر مرکوز ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ فراہم کرے گی
انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں انتخابات اس وقت کرائے جائیں گے جب حالات سازگار ہوں گے اور عوام کو آزادانہ رائے دہی کا موقع مل سکے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق حالیہ کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے تمام امریکی فوجی اب بہتر حالت میں ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد خطے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کولمبیا اور وینزویلا کی صورتحال پر عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑے تو پورا خطہ ایک نئے عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
