امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر اور امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر کے ایک بیان نے میڈیا میں ہلچل مچا دی، جب ایران-اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کے دوران ان کی زبان پھسل گئی۔
زبان پھسلنے کا واقعہ
سینیٹر چک شومر ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ پر بات کر رہے تھے کہ ایک موقع پر انہوں نے کہا، "کوئی بھی اسرائیل کو نیوکلیئر ریاست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا۔” یہ بیان سننے والوں کے لیے حیران کن تھا کیونکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے اسرائیل کے نیوکلیئر اثاثوں کے معاملے پر مبہم رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔
تاہم چک شومر نے فوراً اس غلط فہمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہنا چاہتے تھے: "کوئی بھی نیوکلیئر ایران نہیں دیکھنا چاہتا۔” انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کی اور موقف واضح کیا کہ ان کا اصل اشارہ ایران کی نیوکلیئر صلاحیتوں کی صورت حال کی طرف تھا، نہ کہ اسرائیل کی۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی اور ایران کے معاملے پر تشویش
چک شومر نے اس موقع پر مزید کہا کہ موجودہ ایران-اسرائیل کشیدگی، جسے وہ "ٹرمپ کی جنگ” قرار دیتے ہیں، امریکی انٹیلی جنس کمیٹی سے بریفنگ کے بعد ان کی تشویش میں اضافہ کا باعث بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کسی مربوط منصوبہ بندی یا حکمت عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
یہ بیان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی قانون ساز اور سینیٹرز عالمی تنازعات پر گہری نگرانی رکھتے ہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متعلق اپنے تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔
چک شومر کا یہ واقعہ ایک عام انسانی غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس نے ایران-اسرائیل تنازعہ پر عالمی توجہ کو دوبارہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کی فوری وضاحت نے سیاسی ہنگامے کو کم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی اصل تشویش خطے میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی موجودگی اور ایران کی نیوکلیئر سرگرمیوں سے متعلق ہے، نہ کہ اسرائیل کی صلاحیتوں سے۔
