امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات پر پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مؤثر قیادت کے باعث ممکن ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان نے اس حساس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستانی قیادت کے کردار کی تعریف
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں پاکستانی قیادت کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے ان کی کوششوں کو سراہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان رابطہ کاری میں مدد کی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی قیادت نے امریکا کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے بھارت کے ساتھ ایک ممکنہ بڑے جنگی بحران کو روکنے میں کردار ادا کیا، جس سے ان کے بقول کروڑوں جانیں متاثر ہو سکتی تھیں۔
مذاکرات کی تفصیلات اور دورانیہ
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات صبح سویرے شروع ہوئے اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے۔ اس طویل نشست میں مختلف اہم امور پر بات چیت کی گئی اور کئی نکات پر ابتدائی پیش رفت بھی ہوئی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام معاملات پر اتفاق رائے ممکن نہیں ہو سکا۔
جوہری پروگرام مرکزی رکاوٹ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات میں سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام تھا۔ ان کے مطابق اسی نکتے پر فریقین کے درمیان سب سے زیادہ اختلاف پایا گیا اور کوئی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں کہ ایران جیسے ملک کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہو، خاص طور پر ایسے حالات میں جب خطے میں پہلے ہی عدم استحکام پایا جاتا ہے۔
ایران جنگ کے اخراجات: اسرائیل کو 11 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان
ایران کا مؤقف اور پیش رفت
اگرچہ امریکی صدر نے مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم ان کے مطابق ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر تیار نہیں، جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
دوسری جانب ایرانی حکام پہلے ہی اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
مجموعی صورتحال
یہ مذاکرات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ تاہم پاکستان کے کردار کو دونوں فریقوں کی جانب سے سراہا جانا اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری معاہدہ ممکن نہیں ہو سکا، لیکن طویل مذاکرات اور مسلسل رابطہ کاری مستقبل میں کسی نہ کسی پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
