لندن/واشنگٹن: برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے تمام اشارے موجود ہیں اور یہ فوجی کارروائی آئندہ 24 گھنٹوں میں بھی کی جا سکتی ہے۔ مغربی فوجی حکام کے مطابق غیر متوقع پن امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ اقدام ایران میں موجود حالات کے پیش نظر لیا جا سکتا ہے۔
ادھر اسرائیلی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کے بظاہر فیصلے کر لیے ہیں، تاہم حملے کے دائرہ کار اور وقت کی وضاحت ابھی باقی ہے۔ امریکی صدر نے گزشتہ دنوں ایران میں مظاہرین کو پھانسی دینے اور تشدد کے واقعات پر سخت ردعمل کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسپین، پولینڈ، اٹلی اور بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں امریکی ائیر بیسز سے فوجیوں کا انخلا بھی شروع ہو چکا ہے۔
ایران میں پھانسیوں کا کوئی ارادہ نہیں، حالات مکمل کنٹرول میں ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے سے گفتگو میں ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور ترکی سمیت دیگر خطے کے ممالک کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکا کی مداخلت کی صورت میں وہاں موجود امریکی فوجی اڈے بھی جوابی حملے کی زد میں آئیں گے۔
