ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر امریکی سیاست میں نئی بحث، ریپبلکن پارٹی کے اندر واضح نظریاتی تقسیم سامنے آ گئی
ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر Donald Trump کی جماعت Republican Party کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک جانب پارٹی کے کچھ بااثر رہنما اور حامی اس کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کئی قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری اور خطرناک قدم قرار دیتے ہوئے تنقید کر رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے معاملے پر امریکی سیاسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں، اور یہی تقسیم آئندہ صدارتی اور کانگریسی انتخابات میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ریپبلکن حلقوں میں جنگ پر متضاد آراء
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے بعض حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل Israel کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
اسی پس منظر میں بعض قدامت پسند رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایک اور طویل بیرونی جنگ میں الجھنے کے بجائے اپنی داخلی ترجیحات پر توجہ دینی چاہیے۔ تاہم پارٹی کے دیگر رہنما اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور ایران کے خلاف سخت پالیسی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
معروف شخصیات کی کھلی تنقید
امریکی میڈیا کی معروف شخصیت Tucker Carlson نے اس معاملے پر کھل کر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد از جلد باہر نکلنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اسی طرح معروف پوڈکاسٹر Joe Rogan نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی استحکام کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ایران جنگ: 140 امریکی فوجی زخمی، ایران میں ہزاروں رہائشی و تجارتی یونٹس کو نقصان
دوسری جانب سابق رکن کانگریس Marjorie Taylor Greene نے بھی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے انتخابات میں بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا، اس لیے حکومت کو عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
سروے نتائج: امریکی عوام بھی منقسم
حالیہ عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیادوں پر دیکھا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹ ووٹر اس جنگ کے مخالف ہیں، جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں۔
تاہم ریپبلکن ووٹروں کے اندر بھی واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ جو ووٹر خود کو “میگا” (MAGA) یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں، ان میں سے تقریباً نو میں سے دس افراد جنگ کے حق میں ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھے جاتے ان میں حمایت نسبتاً کم دیکھی جا رہی ہے۔
کانگریس میں بھی اختلافات
امریکی کانگریس میں بھی اس مسئلے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس Thomas Massie نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے ذریعے کانگریس کو جنگی فیصلوں پر ویٹو کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم یہ تجویز منظور نہیں ہو سکی۔
جنگ کے اثرات اور جانی نقصان
رپورٹس کے مطابق اب تک اس تنازع سے متعلق مختلف واقعات میں کم از کم 13 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عراق میں پیش آنے والے ایک طیارہ حادثے میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں عموماً جنگ کے ابتدائی مراحل میں صدر کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، تاہم اس بار صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایران کے خلاف کارروائی کے باوجود صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اختلافات برقرار رہے تو ایران کے معاملے پر جاری بحث آنے والے مہینوں میں امریکی سیاست کا ایک اہم موضوع بنی رہ سکتی ہے۔
