امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایک انتہائی بڑا بحری بیڑا ایران کی سمت روانہ کیا جا رہا ہے، جو حجم اور عسکری صلاحیت کے لحاظ سے اس بحری بیڑے سے بھی کہیں بڑا ہے جو ماضی میں وینزویلا کے خلاف کارروائی سے قبل تعینات کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا، جسے فلوٹیلا بھی کہا جا سکتا ہے، اس وقت ایران کے قریب تعیناتی کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیڑا وینزویلا کے لیے بھیجے گئے بحری دستے سے کہیں زیادہ طاقتور اور وسیع ہے، جو امریکا کی عسکری تیاری اور سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور آئندہ حکمتِ عملی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ صورتحال کس رخ پر جاتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری بیڑے کو کہیں نہ کہیں تعینات ہونا ہی ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں ایران کے قریب موجود رہنا زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب بڑے بحری بیڑے کی روانگی کا ذکر کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد بار ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی ممکنہ خطرے یا اشتعال انگیزی کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک عظیم اور طاقتور بحری بیڑا پوری قوت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں تعینات
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اس بحری بیڑے کی قیادت دنیا کے جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیڑا وینزویلا کی طرح، ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنے مشن کو فوری طور پر مکمل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران کو مذاکرات کی پیشکش بھی دہراتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک منصفانہ، مساوی اور متوازن معاہدہ چاہتا ہے، جس میں ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوئی گنجائش نہ ہو، اور جو تمام فریقین کے مفاد میں ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات نہ صرف ایران کے لیے سخت پیغام ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکا خطے میں اپنی عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی بیاناتی اور عسکری سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
