آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکی اعلان، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے مطابق آبنائے ہرمز میں عارضی ناکہ بندی کا نفاذ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

latest urdu news

ناکہ بندی کب سے نافذ ہوگی؟

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 7 بجے سے نافذ العمل ہوگی۔ سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے، تاہم اس کے دوران سمندری نقل و حرکت پر سخت نگرانی رکھی جائے گی۔

کن جہازوں پر پابندیاں لاگو ہوں گی؟

سینٹ کام کے مطابق ناکہ بندی کے دوران نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں پر بھی عارضی پابندیاں عائد ہوں گی۔

اس فیصلے کے تحت ایرانی بندرگاہوں سے منسلک تجارتی اور بعض سمندری راستوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی مؤقف

امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں سمندری سلامتی کو یقینی بنانا اور حساس آبی راستوں پر نگرانی بڑھانا ہے۔ تاہم اس فیصلے کو عالمی توانائی سپلائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے خطے میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: پاسداران انقلاب کی امریکی جنگی جہازوں کو وارننگ، ویڈیو جاری

ایران کا ردعمل

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے فوجی جہازوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسے جہازوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول اور “اسمارٹ مینجمنٹ” میں ہے، اور اس علاقے میں کسی بھی فوجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ویڈیو اور بڑھتا ہوا تناؤ

ایران نے اس سے قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں پاسداران انقلاب کے اہلکار امریکی بحریہ کے جہازوں کو واپس جانے کی وارننگ دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں موجود تناؤ کو مزید واضح کر دیا ہے۔

مجموعی صورتحال

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا پابندی عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter