امریکا اور اسرائیل نے جاری جنگی کشیدگی کے دوران پہلی بار ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے (آئل انفراسٹرکچر) کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق رات گئے ایران میں ایندھن ذخیرہ کرنے والی متعدد تنصیبات پر شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور دور دور تک دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی تہران میں واقع مرکزی ریفائنری کے قریب ایک اہم آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد علاقے میں آگ کے بڑے شعلے دیکھے گئے اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے طلب کیا گیا۔ اسی طرح شمال مغربی تہران میں بھی ایک اور آئل ڈپو پر حملہ کیا گیا جہاں سے آگ اور دھوئیں کے بادل دور سے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔
علاوہ ازیں تہران کے علاقے شہران میں بھی ایک اور حملے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد مقامی حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے اور ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف
اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی کارروائیاں خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔ فوجی بیان کے مطابق جنگی طیاروں نے ایسے متعدد فیول اسٹوریج کمپلیکس کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایرانی فوج کے زیرِ استعمال تھے۔
ایران اور امارات کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی سے خصوصی پروازیں ممکن
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو فوجی انفراسٹرکچر کی معاونت اور مختلف عسکری اداروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی جنگی صلاحیتوں کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنے خلاف سمجھے جانے والے خطرات کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ ایران مشرقِ وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایسے حملے نہ صرف توانائی کے عالمی بازار بلکہ علاقائی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے ان حملوں کے بعد ممکنہ ردِعمل اور خطے میں جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت کے خدشات پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
