امریکا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار باب کا اضافہ ہو گیا ہے، جہاں پہلی مرتبہ ایک مسلم خاتون نے نائب گورنر کے عہدے کا حلف قرآنِ پاک پر اٹھا کر نئی تاریخ رقم کی۔ ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والی غزالہ ہاشمی نے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھایا، جسے نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ مختلف اقلیتوں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تقریب اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھی کہ ورجینیا کی تاریخ میں پہلی بار گورنر کا منصب بھی ایک خاتون رہنما کے پاس آیا۔ سابق رکنِ کانگریس ایبی گیل اسپین برجر نے بطور گورنر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، جبکہ اٹارنی جنرل کے منصب پر بھی پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام رہنما جے جونز نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس طرح ریاست کی اعلیٰ قیادت میں تنوع، شمولیت اور نمائندگی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔
غزالہ ہاشمی کی حلف برداری کی تقریب میں بین المذاہب ہم آہنگی کو نمایاں کرنے کے لیے ایک انٹرفیتھ پریئر بریک فاسٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر امام شریف نے خصوصی دعا کرائی، جس میں ریاست کی ترقی، امن اور تمام کمیونٹیز کے درمیان اتحاد کے لیے دعا کی گئی۔ تقریب میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت نے امریکا کے کثیرالثقافتی تشخص کو مزید اجاگر کیا۔
تقریب میں سینیٹر صدام ازلان سلیم اور سینیٹر کنعان سمیت کئی نمایاں شخصیات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ ایڈمز اسکاؤٹنگ امریکا اور گرلز اسکاؤٹس کی جانب سے ایک خصوصی پریڈ بھی منعقد کی گئی، جس کی قیادت رضوان جاکا، احسن اللہ، بیتھنی رشید اور دیگر نمائندہ شخصیات نے کی۔ پریڈ کو شرکاء کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
اس موقع پر رضوان جاکا نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت کے تحت ریاست ورجینیا میں اتحاد، برداشت اور تنوع کو مزید فروغ ملے گا اور تمام کمیونٹیز کو برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزالہ ہاشمی کی کامیابی نوجوانوں، بالخصوص مسلم اور ایشیائی نژاد امریکیوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
ریاستی گورنر کے ایشین امریکن ایڈوائزری بورڈ کے چیئر منصور قریشی نے بھی اس تاریخی موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ نہ صرف گورنر اور نائب گورنر بلکہ پوری کابینہ ورجینیا میں بلا تفریق عوام، خصوصاً جنوبی ایشیائی کمیونٹی، کی خدمت کو یقینی بنائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق غزالہ ہاشمی کا قرآنِ پاک پر حلف اٹھانا امریکا میں مذہبی آزادی، جمہوری اقدار اور اقلیتوں کی شمولیت کی ایک مضبوط علامت ہے، جو آنے والے وقت میں مزید مثبت تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
