امریکا نے وینزویلا کے تیل کی باضابطہ فروخت کا عمل شروع کر دیا ہے اور پہلے مرحلے میں 500 ملین ڈالر مالیت کی ٹرانزیکشن مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں وینزویلا کے تیل کی مزید فروخت متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم وینزویلا کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور سرمایہ کاری کے لیے مختلف تیل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ان کمپنیوں کو وینزویلا کے انفراسٹرکچر کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے تاکہ تیل کی پیداوار اور برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا میں ایک فوجی کارروائی کی تھی، جس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد امریکا نے وینزویلا کے تیل کے معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔
وینزویلا کا تیل امریکا خرید رہا ہے، چین اور روس ہم سے لے سکتے ہیں: ٹرمپ
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا کے تیل کی فروخت امریکا کے لیے توانائی کے شعبے میں اہم قدم ہے اور یہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکہ کا مقصد وینزویلا کے تیل سے فائدہ اٹھانا اور خطے میں اپنے اقتصادی و سیاسی اثرات کو مستحکم کرنا ہے۔
