برطانوی وزیرِ اعظم کی چین آمد، تجارت، انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی ایجنڈے میں سرفہرست

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تین روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کو برطانیہ اور چین کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ 2018 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کا پہلا دورۂ چین قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہو سکتا ہے۔

latest urdu news

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ تقریباً 60 ممتاز کاروباری اور ثقافتی شخصیات بھی چین پہنچی ہیں۔ ان شخصیات میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صنعت کار، سرمایہ کار، فنونِ لطیفہ کے نمائندے اور ثقافتی اداروں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ اس وفد کا مقصد چین میں برطانوی سرمایہ کاری، تجارت اور ثقافتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق اس دورے کے دوران چین کے ساتھ دو طرفہ معاشی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ برطانیہ کی کوشش ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی روابط کو حقیقت پسندانہ اور متوازن بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے، تاکہ دونوں ممالک کو باہمی فائدہ حاصل ہو۔

دورے کے اہم نکات میں انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی شامل ہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان موضوعات پر کھلے اور واضح انداز میں گفتگو کی جائے گی۔ لندن اس بات پر زور دے گا کہ عالمی قوانین، انسانی آزادیوں اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جائے، جبکہ چین کی جانب سے بھی اپنے مؤقف پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات جمعرات کو متوقع ہے۔ اس ملاقات میں عالمی امور، علاقائی استحکام، ماحولیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی تعاون جیسے وسیع تر موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کے نزدیک یہ ملاقات مستقبل میں برطانیہ اور چین کے تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مجموعی طور پر یہ دورہ نہ صرف معاشی شراکت داری کے فروغ بلکہ سیاسی مکالمے اور باہمی اعتماد کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter