متحدہ عرب امارات میں بچوں کے تحفظ کے لیے نیا ڈیجیٹل سکیورٹی قانون نافذ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ابوظبی میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات نے نیا چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون نافذ کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس قانون کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ پر موجود خطرات، غیر اخلاقی مواد اور سائبر جرائم سے محفوظ بنانا ہے۔

latest urdu news

نئے اماراتی قانون کے تحت بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی قانونی ذمہ داری والدین پر عائد کر دی گئی ہے۔ اب والدین کی ذمہ داری محض رہنمائی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ انہیں قانونی طور پر بچوں کے آن لائن رویّوں کی نگرانی کرنا ہوگی۔

قانون کے مطابق والدین کو اپنے بچوں کے موبائل فونز، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپس پر نظر رکھنا ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچے کسی خطرناک یا نامناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن گیمز پر محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت سرچ انجنز، اسٹریمنگ سروسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ بنانا ہوگا۔ ڈیجیٹل کمپنیوں پر بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ عمر کی تصدیق، مواد کی فلٹرنگ، پیرنٹل کنٹرول، اشتہارات پر پابندی اور اسکرین ٹائم کی حد جیسے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

قانون کا اطلاق صرف مقامی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات سے باہر موجود ڈیجیٹل کمپنیوں پر بھی ہوگا، جو امارات میں سروسز فراہم کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک میں 4 ہزار سے زائد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق 60 فیصد بچے کسی نہ کسی مرحلے پر نامناسب آن لائن مواد کا سامنا کر چکے ہیں۔

اماراتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر بھاری جرمانے، پابندیاں یا ملک میں سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں آن لائن تشدد، بلیک میلنگ، فراڈ اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter