امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری پروگرام پر معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں صورتحال ایران کے لیے "بہت بُرا دن” ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے حامی نہیں۔ امریکی صدر نے ان رپورٹس کو "فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اہم فیصلے وہ خود کریں گے۔
امریکی صدر کے بیان کے مطابق ان کی پہلی ترجیح ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور عالمی سلامتی کو یقینی بنائے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر آپشنز پر غور کرے گا۔
ایران ہتھیار ڈالنے سے انکار، ٹرمپ مایوس: امریکی فوجی قوت کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں
یاد رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا اور ایرانی وفود کے درمیان اہم ملاقات جنیوا میں متوقع ہے۔ اس ملاقات میں امریکا کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جہاں دونوں فریق ممکنہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی فضا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ایک جانب سفارت کاری کی راہ کھلی رکھی گئی ہے، تو دوسری طرف سخت بیانات سے دباؤ کی حکمت عملی بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب جنیوا میں ہونے والی بات چیت پر مرکوز ہیں، جو آئندہ چند دنوں میں خطے کی سمت کا تعین کر سکتی ہے
