ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو سخت نتائج ہوں گے، صدر ٹرمپ کا انتباہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا کے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی وہ بہترین پیش رفت ہوسکتی ہے جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت محض بیانات اور دعوؤں تک محدود رہی ہے، تاہم عملی طور پر عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہیں لا سکی۔

latest urdu news

اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایران کے ساتھ سفارتی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عسکری اقدامات کی ضرورت نہیں رہے گی، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکا ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی بحری بیڑے کا ایک حصہ پہلے ہی خطے میں موجود ہے، جبکہ اضافی بیڑا بھی جلد تعینات کر دیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات محض دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

ایران سے کشیدگی کے دوران ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاری مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کسی تصادم کا خواہاں نہیں بلکہ ایک جامع اور قابلِ قبول معاہدہ چاہتا ہے جو خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دے۔

امریکی صدر کے بیان کو عالمی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں بیک وقت جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter