وائیٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ 6 اپریل کی ڈیڈلائن سے قبل ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی مزید 4 سے 6 ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہے۔
پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے اور تہران نے امریکا کی بعض تجاویز پر غیر علانیہ طور پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم نجی اور عوامی بیانات میں فرق ہو سکتا ہے اور حتمی مؤقف کا جائزہ لیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ خلیجی اور عرب ممالک سے جنگی اخراجات میں تعاون کی درخواست پر بھی غور کر رہے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا آبنائے ہرمزپر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرتا، اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں متعدد آئل ٹینکرز اس اہم گزرگاہ سے گزریں گے۔
ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، کہا: معاہدے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے
ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے انسانی بنیادوں پر Russia کو Cuba تیل بردار جہاز بھیجنے کی اجازت دی ہے، تاہم کیوبا سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی بلکہ پیغامات ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں۔
