امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا جلد ایران میں اپنی موجودگی ختم کر دے گا اور دعویٰ کیا کہ وہاں پہلے ہی "رجیم تبدیل” کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی کردار اب محدود کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرانس اور دیگر ممالک تیل و گیس کی ترسیل چاہتے ہیں تو انہیں خود اپنی حفاظت کا بندوبست کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم گزرگاہ میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے سے امریکا کا براہِ راست تعلق نہیں ہوگا۔
واشنگٹن ڈی سی میں جیفری ایپسٹین اور ڈونلڈ ٹرمپ کا متنازع مجسمہ نصب
داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ناقدین کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان پر بادشاہت جیسے الزامات لگائے جاتے ہیں، جبکہ گزشتہ برسوں میں مخالفین کی کارکردگی سوالیہ نشان رہی ہے۔ انہوں نے سرحدی پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مخالفین نے بڑی تعداد میں افراد کو امریکا میں داخل ہونے دیا۔
مزید برآں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف تعمیراتی کام بھی مکمل کیے گئے ہیں، جن کے اخراجات بڑی کمپنیوں اور صاحبِ حیثیت افراد نے اٹھائے۔
