امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکا کے مجوزہ قبضے کی مخالفت کرنے والے ممالک پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان ممالک پر درآمدی ٹیکس لگائیں گے جو ان کے گرین لینڈ کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سے ممالک کو اس نئے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نہ ہی انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیرف کب اور کن اختیارات کے تحت نافذ کیے جائیں گے۔ تاہم، یہ اعلان اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے حوالے سے اپنی پالیسی میں سخت موقف اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے، وسائل سے مالا مال ہے اور اپنی حکومت رکھتا ہے۔ یہ شمالی امریکا اور آرکٹک کے درمیان واقع ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت کے سبب دفاعی نقطہ نظر سے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں امریکا کے 100 سے زائد فوجی اہلکار پہلے ہی پٹوفک اڈے پر تعینات ہیں، جو شمال مغربی گرین لینڈ میں ایک میزائل مانیٹرنگ اسٹیشن ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا اسے چلا رہا ہے۔
گرین لینڈ کا امریکا کو واضح جواب: ہم امریکی ملکیت نہیں بننا چاہتے
اس علاقے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ شمالی امریکا کے دفاع میں ابتدائی انتباہی نظام کے لیے موزوں ہے اور خطے میں فضائی نگرانی اور بحری کارروائیوں کے لیے کلیدی جگہ فراہم کرتا ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان پر گرین لینڈ اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک نے پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور امریکا میں بھی متعدد حلقے اس پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکا واقعی ایسا قبضہ کر پائے گا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اقدام نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت عالمی سیاست میں امریکا کے لیے سنگین ترجیح رکھتی ہے، اور صدر ٹرمپ اس پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
