ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ Iran کے خلاف مجوزہ حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ انہوں نے شہباز شریف اور عاصم منیرسے بات چیت کے بعد کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے کیا گیا ہے، جس کے لیے ایران کی جانب سے Strait of Hormuz کو فوری، مکمل اور محفوظ طور پر کھولنا شرط ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ United States اپنے اہم فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے 10 نکاتی تجویز پیش کی ہے، جو مذاکرات کے لیے ایک مؤثر بنیاد فراہم کر رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر اہم معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور یہ دو ہفتوں کی مہلت حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بطور صدر اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں کردار ادا کرتے ہوئے اس دیرینہ تنازع کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستان کو خراجِ تحسین، جنگ بندی میں کردار سراہا
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے Pakistan کے سفارتی کردار کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
