امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ 24 گھنٹوں میں ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جلد مثبت پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا سخت اقدامات پر غور کرے گا، جن میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایسی طاقت ہے کہ وہ ایران کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایرانی مظاہرین اور کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کیا، تاہم ان کے بقول کردوں نے یہ ہتھیار اپنے پاس ہی رکھ لیے ہیں۔
ایران سے متعلق سخت بیانات پر امریکی سینیٹرز کی ٹرمپ پر شدید تنقید
دوسری جانب امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک سخت پیغام میں ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اہم بحری راستہ بحال نہ کیا گیا تو ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
