امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے عوام آزادی کے حصول کے لیے سخت سے سخت حالات برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی شہری موجودہ حالات سے نجات چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں بڑی تکالیف ہی کیوں نہ اٹھانی پڑیں۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایرانیوں کے گھروں کے قریب بمباری بھی ہو رہی ہو تو وہ اس کے باوجود مزید کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اولین خواہش آزادی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں خواتین مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، جن میں مبینہ طور پر انہیں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد احتجاج میں کمی آئی۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر کسی معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو اس کے پاور پلانٹس اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نیٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اتحادی ممالک نے توقع کے مطابق تعاون نہیں کیا۔
ایران کے خلاف سخت بیان، ٹرمپ کی منگل تک مہلت اور بڑی کارروائی کی دھمکی
ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے چند ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے ساتھ تعلقات کو مثبت قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کویت کی جانب سے ایک واقعے میں امریکی طیارے مار گرائے گئے، جس کی وجہ ان کے مطابق دفاعی نظام کو درست طریقے سے استعمال نہ کرنا تھا۔
اپنے بیان کے دوران ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے مطابق اگر انہوں نے مداخلت نہ کی ہوتی تو ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی تھی جس میں کروڑوں جانیں ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
