بورڈ آف پیس کے اجلاس میں غزہ کے لیے 5 ارب ڈالر اور فوجی امداد کا وعدہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غزہ کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد کی مالی امداد فراہم کرنے اور ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا وعدہ کریں گے۔ یہ اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہو رہا ہے اور اس میں 20 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔

latest urdu news

انسانی امداد اور سیکورٹی فورسز

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ رکن ممالک اقوام متحدہ کی منظوری سے قائم کی جانے والی اسٹیبلائزیشن فورس اور مقامی پولیس کے لیے اہلکار فراہم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں تعمیرِ نو اور انسانی امداد کو یقینی بنانا اور علاقے میں امن قائم رکھنا ہے۔

پاکستان کی شرکت

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں شریک ہوں گے جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے۔

بورڈ آف پیس اور مسئلہ کشمیر: بھارت کو ٹرمپ کے ممکنہ اقدام پر تشویش

حماس کی شرائط

اجلاس سے قبل حماس نے واضح کیا ہے کہ امن فورس سرحد پر موجود رہے اور فلسطین کے داخلی سول، سیاسی اور سکیورٹی امور میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ عالمی اہلکاروں کی مداخلت فلسطینی عوام کے لیے ناقابل قبول ہوگی اور وہ انہیں قابضین کا متبادل تصور کریں گے۔ تاہم عالمی فورس کے تعیناتی پر اعتراض نہیں، بشرطیکہ یہ فریقین کے درمیان حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرے۔

یہ اجلاس نہ صرف غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے لیے اہم ہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کا بھی مظہر ہے۔ رکن ممالک کی مالی اور فوجی امداد کی یقین دہانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی برادری غزہ میں انسانی ہمدردی اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کرنے پر تیار ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter