ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے میزائل پروگرام پر ممکنہ حملوں کی حمایت کی یقین دہانی کروادی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے **دسمبر میں اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو کو یقین دلایا تھا کہ اگر **واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات ناکام ہو گئے تو وہ ایران کے بیلسٹک (میزائل) پروگرام پر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کی مکمل حمایت کریں گے۔ اس بات کا انکشاف امریکی میڈیا رپورٹس نے کیا ہے، جن کے مطابق یہ یقین دہانی فلوریڈا کے مشہور ریزورٹ مارا‑لا‑لاگو میں ایک ملاقات کے دوران کرائی گئی۔

latest urdu news

ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکمت عملی اب ممکنہ فوجی آپشنز کو بھی سامنے رکھ رہی ہے، خاص طور پر اگر بین‑الاقوامی مذاکرات ایران کے بیلسٹک میزائل ڈھانچے کو محدود کرنے اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج اور انٹیلی جنس حکام نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ ممکنہ حملوں میں واشنگٹن کس حد تک تکنیکی یا سفارتی تعاون فراہم کر سکتا ہے، جیسے اسرائیلی طیاروں کو فضائی ری فیولنگ یا پڑوسی ممالک سے اوور فلائٹ اجازت نامے حاصل کرنا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے ساتھ “ڈیل نہ ہو سکی” تو امریکہ اسرائیل کی دفاعی اور ممکنہ جارحانہ کارروائیوں کا پوری طرح ساتھ دے گا۔ ان الفاظ میں ایک واضح عسکری موقف نظر آتا ہے جس میں مذاکرات ناکامی کی صورت میں عسکری راستے اختیار کرنے کے امکانات سامنے رکھے گئے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے بیانات میں ایران کے خلاف سخت موقف بھی اپنایا ہے، انہوں نے کہا کہ “اگر ایران میں اقتدار کی تبدیلی ہو سکے تو یہ بہترین چیز ہو گی جو ممکن ہے”، اور ساتھ ہی خطے میں فوجی طاقت کی موجودگی بڑھانے پر بھی زور دیا۔ اس سلسلے میں امریکہ مزید بحری بیڑے، بشمول طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کر رہا ہے، جسے وہ ممکنہ فوجی صورت حال کے لیے تیار کر رہا ہے۔

میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: ایران

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جنیوا میں طے پایا ہے، جس میں ثانوی مذاکرات کے ذریعے دونوں فریق ممکنہ جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں پر معاہدے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ نے سفارتکاری کو بھی اہمیت دی ہے، لیکن ان کے بیانات میں فوجی آپشن کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں، جس سے خطے میں دباؤ اور بے چینی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات پر پڑے گا بلکہ اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی حکمت عملیوں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter