9
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اسے امریکا کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور تہران نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کو مغرب اور امریکا کی حمایت حاصل ہے۔
اہم متاثرہ ممالک اور ایران کے ساتھ ان کا تجارتی حجم
چین
- ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار
- 2022 میں ایرانی برآمدات: 22 ارب ڈالر (ایندھن کا حصہ نصف سے زیادہ)
- ایران سے درآمدات: 15 ارب ڈالر
- 2025 میں چین نے ایران کے بحری جہازوں کے ذریعے بھیجے گئے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ خریدا
بھارت
- 2025 کے پہلے 10 مہینوں میں ایران کے ساتھ کل دوطرفہ تجارت: 1.34 ارب ڈالر
- بھارت کی برآمدات: باسمتی چاول، پھل، سبزیاں، ادویات اور دیگر فارماسیوٹیکل مصنوعات
ترکیہ
- 2022 میں ایران کو برآمدات: 5.8 ارب ڈالر
- ایران سے درآمدات: 6.1 ارب ڈالر
جرمنی
- ایران کو برآمدات: 178 ملین ڈالر
- ایران سے درآمدات: 1.9 ارب ڈالر
جنوبی کوریا
- 2025 میں ایران کو برآمدات: 129 ملین ڈالر
- ایران سے درآمدات: 1.6 ملین ڈالر
جاپان
- ایران سے معمولی مقدار میں پھل، سبزیاں، ٹیکسٹائل درآمد
- کچھ مشینری اور گاڑیوں کے انجن برآمد کیے
اہم نکات
- ایران کا سب سے بڑا برآمدی سامان تیل ہے۔
- دیگر اہم برآمدات: درمیانی درجے کی اشیا، سبزیاں، مشینری اور آلات۔
- امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے خریدار محدود ہیں، جس سے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ اقدام خاص طور پر چین، بھارت، ترکیہ، جرمنی، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک کو براہ راست متاثر کرے گا، جو ایران کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔
