تہران/ ٹوکیو: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ تنازع ایران کی اپنی خواہش نہیں بلکہ اس پر مسلط کیا گیا ہے، تاہم تہران خطے میں کسی عارضی حل کے بجائے مکمل، جامع اور پائیدار جنگ بندی کا خواہاں ہے۔
جنگ بندی کی تجاویز پر آمادگی
جاپانی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہر اس قدم کا خیرمقدم کرے گا جو خطے میں خونریزی کے مکمل خاتمے کا باعث بنے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تہران کسی بھی ایسی ’سنجیدہ‘ تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جو خطے میں امن کی ضمانت دے سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی ممالک اس وقت کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکی کردار پر تحفظات
ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کی صورتحال میں امریکہ کے منفی کردار پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے حالیہ اقدامات سے بظاہر ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خطے میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔
’اسرائیل کیلئے انتہائی مشکل شام‘؛ ایرانی حملوں سے دیمونا اور عراد میں بڑی تباہی، نیتن یاہو کا اعتراف
جاپانی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش
ایک اہم سفارتی پیشرفت میں عباس عراقچی نے جاپان کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کے پیشِ نظر ایران، آبنائے ہرمز سے جاپانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لیے آمادہ ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے اس بیان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
امن کے لیے سفارتی ترجیح
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری اور پائیدار امن رہی ہے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا مکمل احترام کیا جائے۔
