اسٹیٹ آف دی یونین خطاب: ٹرمپ کا ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری سرگرمیوں پر سخت مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن میں اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل قریب میں ایسے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں گے۔

latest urdu news

صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ اگرچہ امریکا ایران کے بڑھتے ہوئے دفاعی پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ معاملہ سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کے بقول واشنگٹن تہران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور جوہری پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

امریکی صدر نے ایران کی اندرونی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے ہزاروں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے انسانی حقوق کے معاملے پر آواز اٹھائی اور سزاؤں کو رکوانے میں کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے اپنے مؤقف کو “امن بزور طاقت” کی پالیسی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا طاقت کے ذریعے امن قائم رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔

معاہدہ نہ ہوا تو “بہت بُرا دن” ہوگا :ٹرمپ کا ایران کو انتباہ

خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس ایران کی مبینہ جوہری تنصیبات پر امریکی کارروائی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے ایک بار پھر ایرانی جنرل کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم اقدام قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا واضح یقین دہانی سننا چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا، تاہم ان کے مطابق تہران کی جانب سے ایسی کوئی غیر مبہم ضمانت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری سرگرمیوں اور میزائل پروگرام پر کڑی نظر رکھے گا، جبکہ سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش بھی جاری رہے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter