اسپین کی بائیں بازو کی حکومت نے منگل کو ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو ہنگامی حکم (decree) کے ذریعے قانونی حیثیت دی جائے گی۔ یہ اقدام یورپ میں موجود سخت امیگریشن پالیسیوں سے ہٹ کر اسپین کی نرم رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔
اسپین یورپ کے ان ممالک میں سے ایک ہے جو غربت، جنگ اور ظلم و ستم سے بچنے والے تارکین وطن کے لیے اہم دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
امیگریشن کی وزیر ایلما سائز نے کہا کہ اس اقدام کے مستفید ہونے والے افراد ملک کے کسی بھی حصے میں، کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے اور اس کے "مثبت اثرات” واضح ہوں گے۔ انہوں نے عوامی نشریاتی ادارے RTVE کو بتایا کہ "ہم تقریبی اعداد و شمار کے بارے میں بات کر رہے ہیں، لگ بھگ نصف ملین لوگ اس میں شامل ہوں گے۔”
وزیر سائز نے کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ "ہم ایک ایسے امیگریشن ماڈل کو مضبوط کر رہے ہیں جو انسانی حقوق، انضمام، ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی و سماجی ہم آہنگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔”
یہ اقدام ان لوگوں پر اثر انداز ہوگا جو اسپین میں کم از کم پانچ ماہ سے مقیم ہیں اور جنہوں نے 31 دسمبر 2025 سے پہلے بین الاقوامی پناہ کی درخواست دی تھی۔ درخواست گزاروں کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا لازمی ہے، اور یہ قانون ان کے اسپین میں رہائش پذیر بچوں پر بھی لاگو ہوگا۔ درخواست دینے کی مدت اپریل میں شروع ہو کر جون کے آخر تک جاری رہے گی۔
اس منصوبے کو ہنگامی حکم کے ذریعے نافذ کیا جائے گا جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں، کیونکہ سوشلسٹ قیادت والی حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔
تاہم قدامت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی حزب اختلاف نے حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ قانونی اقدام مزید غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دے گا۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ البرٹو نونیز فائیجو نے X (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا کہ یہ "حماقت بھرا منصوبہ” عوامی خدمات پر بوجھ ڈالے گا۔
اسپین کی کیتھولک چرچ نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اسے "سماجی انصاف اور اعتراف” قرار دیا۔
سوشلسٹ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے مطابق اسپین کو ورک فورس کے خلا کو پر کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ سال میں اسپین کی اقتصادی ترقی میں 80 فیصد حصہ تارکین وطن نے ڈالا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے آخری سہ ماہی میں 76,200 افراد کے روزگار میں اضافہ ہوا، جن میں سے 52,500 غیر ملکی تھے، جس سے 2008 کے بعد سب سے کم بے روزگاری کی شرح حاصل ہوئی۔
اسپین کی نرم امیگریشن پالیسی یورپ میں بڑھتی سختی کے رجحان سے مختلف ہے، جہاں کئی ممالک نے انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں پالیسی سخت کر دی ہیں۔
جنوری 2025 میں اسپین میں تقریباً 840,000 غیر قانونی تارکین وطن موجود تھے، جن میں زیادہ تر لاطینی امریکی تھے۔ اسپین میں اب کل آبادی 49.4 ملین میں سے سات ملین سے زائد غیر ملکی مقیم ہیں۔
