لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل سے متعلق خبروں نے ملک میں سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ قذافی خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، تاہم اس واقعے کی مکمل اور آزادانہ باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
عرب میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق سیف الاسلام قذافی کو ایک باغ میں نشانہ بنایا گیا، جہاں چار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملہ انتہائی قریب سے کیا گیا اور حملہ آوروں نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔
لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی لانا نے سیف الاسلام کے مشیر عبداللہ عثمان کے حوالے سے ان کی موت کی خبر شائع کی ہے، جس کے بعد افواہوں اور دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔ تاہم لیبیا کے مختلف سرکاری اور نیم سرکاری حلقوں کی جانب سے اس خبر پر محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حتمی بیان تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی جاری کیا جائے گا۔
سیف الاسلام قذافی کو طویل عرصے سے اپنے والد معمر قذافی کا سیاسی جانشین تصور کیا جاتا رہا ہے۔ 2011 میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ایک متنازع مگر بااثر شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے 2021 میں لیبیا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم سکیورٹی خدشات اور سیاسی اختلافات کے باعث یہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سیف الاسلام قذافی کے قتل کی خبر کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے لیبیا کی پہلے سے غیر مستحکم سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قذافی خاندان کے حامی حلقوں میں ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔
دوسری جانب بعض مبصرین نے اس خبر پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی سیف الاسلام قذافی کے حوالے سے متضاد اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے اس معاملے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل آزاد ذرائع سے تصدیق ناگزیر ہے۔ لیبیا کی عبوری حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک کوئی واضح اور جامع بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
